اِس لیے ہی تو اندھیرے میں دھرے رہتے ہیں
شمع رُویوں کے ٹھکانوں سے پرے رہتے ہیں
چھوڑ دیتے نہیں جو شاخِ شجر کا دامن
زرد موسم میں بھی وہ پات ہرے رہتے ہیں
سینہ و دل کہاں فارغ رہے عشاقوں کے
یہ خزانے تو عجب غم سے بھرے رہتے ہیں
شہر میں جس کی محبت کا ہے چرچا یارو
کیا ستم ہے کہ ہم اُس سے ہی ڈرے رہتے ہیں
شکوۂ جور و ستم کرتے ہیں ، لیکن حد ہے
پھر اُسی شوخ کی خدمت میں مَرے رہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محفلِ دوست میں ہم آن کے چُپ بیٹھے ہیں
اور وہ ہیں کہ سبھی جان کے چُپ بیٹھے ہیں
ایک ہنگامہ بپا ہے سبھی اطراف مگر
اہلِ دربار بُرا مان کے چُپ بیٹھے ہیں
کھول رکھا ہے تِرے خواب نگر کا نقشہ
اور ِاک سبز رِدا تان کے چُپ بیٹھے ہیں
جانے کیا دستِ قضا نے اُنھیں پیغام دیا
جو کہ طالب تھے مِری جان کے چُپ بیٹھے ہیں
گونجتی پھِرتی ہے آوازِ جرس کس کے لیے
ہم تو یاں پاس ہی سامان کے چُپ بیٹھے ہیں
